دلاور علی آزر

اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)

28 December 2025

14سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

کیسے بجھتا بھلا چراغ مرا

کیسے بجھتا بھلا چراغ مرا دل نے روشن رکھا دماغ مرا اب مجھے علم ہے کہ میں کیا ہوں اب چھلکتا نہیں ایاغ مرا آ رہی ہے ہوا کسے چھو کر آج صحرا ہے باغ باغ مرا ہاتھ شاید تمھارے آ جائے مجھ کو حاصل کہاں فراغ مرا چاروں اطراف تھی ہوا کی فصیل کس نے گل کر دیا چراغ مرا ایسا الجھا ہے مجھ سے تار خرد کام کرتا نہیں دماغ مرا گم ہوں میں اپنی ذات میں آزرؔ کیا لگے وقت کو سراغ مرا

— دلاور علی آزر